یادرہے صدام کی خونخوار حکومت کے چودہ اراکین کو اس مقدمے میں ملزم ٹہرایا گيا جن میں صدام کا نائب طارق عزیز سر فہرست ہے۔ انتفاضۂ شعبانیہ اس تحریک کو کہا جاتا ہے جو 1991 میں عراق کے چودہ شمالی اور جنوبی صوبوں میں صدام کےخلاف شروع ہوئی تھی ۔ صدام کے ظلم وستم سے تنگ آنے والے شیعہ اس تحریک میں پیش پیش تھے ۔ صدام نے امریکہ اور برطانیہ اور اسلامی انقلاب کے مخالف ایم کے او دہشتگرد ٹولے (منافقین) کی حمایت سے اس قیام کو بری طرح کچل دیا تھا جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد شہید ہوئےتھے ۔ اس قیام کو 19 برس گذرنے کے باوجود صدامی درندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے افراد کی لاشیں عراق کے مختلف علاقوں میں بنی اجتماعی قبروں سے نکالی جارہی ہیں۔............/110
17 جولائی 2010 - 19:30
News ID: 185403
عراق کی عدالت عالیہ میں 1991 کے انتفاضۂ شعبانیہ کو کچلنے والے ملزموں کے خلاف مقدمے کی سماعت کل سے شروع ہورہی ہے۔